ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / موگیروں کو پسماندہ ذات سرٹیفکٹ کا معاملہ :عدالت ِ عظمیٰ نے معاملے کو سرکار کے حوالے کیا

موگیروں کو پسماندہ ذات سرٹیفکٹ کا معاملہ :عدالت ِ عظمیٰ نے معاملے کو سرکار کے حوالے کیا

Sun, 12 Nov 2017 01:24:50    S.O. News Service

بھٹکل:11/ نومبر (ایس اؤنیوز)اترکنڑا ضلع میں ،خاص کر بھٹکل میں  اپنی کثیر تعداد رکھنے والے موگیرطبقہ کو پسماندہ ذات کی سرٹیفکٹ فراہم کئے جانے کو لے کر چل رہے تنازعہ کا خاتمہ فی الحال حل ہوتانظر نہیں آرہاہے۔ موگیر سنگھ کے خلاف کرناٹکا سرکار کی طرف سے دائر کردہ رٹ عرضی پر جمعرا ت کو فیصلہ سناتے ہوئے سپریم کورٹ نے قومی پسماندہ ذات بورڈ کی  رپورٹ پر انحصار کرتے ہوئے کوئی الگ سے فیصلہ نہیں سنائے جانے کااعلان کیاہے۔ اگر کسی کو محسوس ہوتاہے کہ ا ن سے انصاف نہیں کیا گیا ہے تو وہ متعلقہ بورڈ کے سامنے پیش ہوتے ہوئے انصاف حاصل کرنے کی بات کہی ہے۔ اس کے علاوہ ہتک عدالت کولے کر داخل کئے گئے مقدمات کو بھی کورٹ نے خارج کیاہے۔

عدالتِ عظمیٰ کے فیصلے سے معاملہ اب پھر ایک بار دوبارہ سرکار کے سامنے آنا مجبوری ہوگئی ہے۔ کرناٹکا حکومت کی زیر ماتحت ڈائرکٹوریٹ اور مرکزی پسماندہ ذات کمیشن کے لئے ضروری ہوگیا ہے کہ وہ اس سلسلے میں ایک واضح فیصلہ لیں۔ خاص بات یہ ہے کہ گذشتہ چند برسوں سے عدالتی فیصلے کا انتظارکرنے والے موگیر طبقہ اور مخالف گروہ کے چند لوگوں نے  اپنے حق میں فیصلہ ہونے کا دعویٰ کرتے ہوئے پٹاخے پھوڑکر جشن منایا ہے۔ تعجب کی بات یہ بھی ہے کہ کچھ ٹی وی نیوز چینل والوں نے بھی موگیر کے حق فیصلہ ہونے کی خبریں نشر کیں تو موگیر طبقہ کے لوگوں نے فطری طورپر جشن منایا ہے۔

سال 2008میں بنگلورو ڈائرکٹوریٹ اے ڈی جی پی ٹھاکور نے اترکنڑا ضلع کے ماہی گیر موگیر پسماندہ ذات میں شامل نہیں ہیں، انہیں پسماندہ ذات کے طورپر جو ذات کی اسناد دی جارہی ہیں اس کو روکنے کی سفارش کرتے ہوئے حکومت کو رپورٹ سونپی تھی۔ اس کے بعد سماج کلیان وزیر کاگوڈ تمپا کے زمانے میں میسور یونیورسٹی کے پروفیسر ایچ کے بھٹ کی قیادت والی کمیٹی نے بھی انہیں پسماندہ نہیں ہونے کی رپورٹ سونپی تو حکومت اس کو منظوری دی اور اترکنڑا ضلع میں موگیروں کو پسماندہ ذات کی سرٹیفکٹ دینے سے روک دیا۔ اس دوران دنیکر پی بیدمنے اور وگھنشیور موگیر نامی سرکاری ملازمین نے اترکنڑا ڈپٹی کمشنر کے خلاف دھارواڑ ہائی کورٹ بنچ میں مقدمہ دائر کیا،مگر عدالت نے ان کی عرضی کو قبول نہیں کیا۔ اسی معاملے کو لے کرالگ سے  بنگلورو ہائی کورٹ میں عرضی داخل کی گئی ۔دونوں گروہ کے دلائل کی سماعت کرنے کے بعد عدالت نے 1976میں پسماندہ ذات پر سرٹیفکٹ کی پابندی کو اٹھالیا اور موگیر جہاں کہیں بھی رہیں  وہ پسماندہ سرٹیفکٹ کے اہل ہونے کا فیصلہ سنایا۔ یہاں کرناٹکا حکومت سپریم کورٹ میں رٹ داخل کرتے ہوئےحکم امتناعی حاصل کرنے میں کامیابی حاصل کی۔ اسی طرح سرکاری ملازمین دینکر اور وگھنیشور نے 2012 میں  الگ الگ سپریم کورٹ میں عرضی داخل کی۔خیال رہے کہ سپریم کورٹ نے تینوں مقدمات کو یکجا کرکے ایک بنچ کے حوالے کرتے ہوئے سنوائی کی۔ سپریم کورٹ نے اس معاملے کو لے کر قومی پسماندہ ذات کمیشن  کو حکم جاری کیا تھا۔ حال ہی میں کمیشن نے اپنی رپورٹ عدالت کو سونپی تھی۔

عدالتِ عظمی ٰ کے فیصلے پر موگیر سماج بھٹکل کے صدر کے ایم کرکی نے اظہار خیال کرتے ہوئے کہاکہ 2011میں ہائی کورٹ نے واضح طورپر کہاہے کہ موگیر پسماندہ ذات میں شامل ہیں، وہ دستور ی حقوق کے اہل ہیں اس میں کوئی مداخلت نہ کرے۔ اب سپریم کورٹ نے سرکار کی رٹ عرضی سماعت پر قومی پسماندہ ذات کمیشن کی رپورٹ حاصل کرنے کے بعد حل بتایا ہے ۔ اس سے ازخود ہائی کورٹ کا حکم باقی رہ جاتاہے حکومت بغیر کسی دیری کے موگیروں کو پسماندہ ذات کی سہولیات فراہم کرنے کا مطالبہ کیا۔

معاملے کو لے کر کورٹ سرکار کی نمائندگی کئے وکیل جگدیش نے کہاکہ سپریم کورٹ نے پسماندہ ذات کی سرٹیفکٹ معاملے میں موگیروں کے حق میں کوئی فیصلہ نہیں سنایا ہے۔ اس سے قبل صادر کیا گیا  ہائی کورٹ کا فیصلہ بھی موگیروں سے تعلق نہیں ہونے کی بات کہی۔

 


Share: